ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 10

الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ مَہۡدًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۚ۱۰﴾
وہ جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمھارے لیے راستے بنائے، تاکہ تم راہ پاؤ۔ En
جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو
En
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (بچھونا) بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے کردیے تاکہ تم راه پالیا کرو En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 ایسا بچھونا، جس میں ثبات وقرار ہے، تم اس پر چلتے ہو، کھڑے ہوتے اور سوتے ہو اور جہاں چاہتے ہو، پھرتے ہو اس نے اس کو پہاڑوں کے ذریعے سے جما دیا تاکہ اس میں حرکت و جنبش نہ ہو۔ 10۔ 2 یعنی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لئے راستے بنا دیئے تاکہ کاروباری، تجارتی اور دیگر مقاصد کے لئے تم آجا سکو۔