ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 52

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ ہُوَ فِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۵۲﴾
کہہ دے کیا تم نے دیکھا ا گر وہ اللہ کی طرف سے ہوا، پھر تم نے اس کا انکار کر دیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہو گا جو بہت دور کی مخالفت میں پڑا ہو۔
کہو کہ بھلا دیکھو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق کی) پرلے درجے کی مخالفت میں ہو
آپ کہہ دیجئے! کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے آیا ہوا ہو پھر تم نے اسے نہ مانا بس اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہوگا جو مخالفت میں (حق سے) دور چلا جائے

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

52۔ 1 یعنی ایسی حالت میں تم سے زیادہ گمراہ اور تم سے زیادہ دشمن کون ہوگا۔ 52۔ 2 شقاق کے معنی ہیں ضد، عناد اور مخالفت بعید مل کر اس میں اور مبالغہ ہوجاتا ہے۔ یعنی جو بہت زیادہ مخالف اور عناد سے کام لیتا ہے، حتی کہ اللہ کے نازل کردہ قرآن کی بھی تکذیب کردیتا ہے، اس سے بڑھ کر گمراہ اور بدبخت کون ہوسکتا ہے؟