ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 11

ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ ہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَ لِلۡاَرۡضِ ائۡتِیَا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ ﴿۱۱﴾
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہو ا اور وہ ایک دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا کہ آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے۔ دونوں نے کہا ہم خوشی سے آگئے۔
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں
پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 یہ آنا کس طرح تھا؟ اس کی کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی۔ یہ دونوں اللہ کے پاس آئے جس طرح اس نے چاہا، بعض نے اس کا مفہوم لیا ہے کہ میرے حکم کی اطاعت کرو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم حاضر ہیں، چناچہ اللہ نے آسمانوں کو حکم دیا، سورج، چاند ستارے نکال اور زمین کو کہا، نہریں جاری کر دے اور پھل نکال دے (ابن کثیر) یہ مفہوم ہے کہ تم دونوں وجود میں آجاؤ۔