ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 42

تَدۡعُوۡنَنِیۡ لِاَکۡفُرَ بِاللّٰہِ وَ اُشۡرِکَ بِہٖ مَا لَیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ۫ وَّ اَنَا اَدۡعُوۡکُمۡ اِلَی الۡعَزِیۡزِ الۡغَفَّارِ ﴿۴۲﴾
تم مجھے بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور اس کے ساتھ اسے شریک ٹھہراؤں جس کا مجھے کچھ علم نہیں اور میں تمھیں سب پرغالب، بے حد بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔ En
تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ خدا کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں۔ اور میں تم کو (خدائے) غالب (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں
En
تم مجھے یہ دعوت دے رہے ہوکہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ شرک کروں جس کا کوئی علم مجھے نہیں اور میں تمہیں غالب بخشنے والے (معبود) کی طرف دعوت دے رہا ہوں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

42۔ 1 عزیز غالب جو کافروں سے انتقام لینے اور ان کو عذاب دینے پر قادر ہے غفار اپنے ماننے والوں کی غلطیوں کوتاہیوں کو معاف کردینے والا اور ان کی پردہ پوشی کرنے والا۔ جب کہ تم جن کی عبادت کرنے کی طرف مجھے بلا رہے ہو وہ بالکل حقیر اور کم تر چیزیں ہیں نہ وہ سن سکتی ہیں نہ جواب دے سکتی ہیں کسی کو نفع پہچانے پر قادر ہیں نہ نقصان پہنچانے پر۔