3۔ 1 گزشتہ گناہ معاف کرنے والا اور مستقبل میں ہونے والی کوتاہیوں پر توبہ قبول کرنے والا ہے یا اپنے دوستوں کے لئے غافر ہے اور کافر اور مشرک اگر توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ 3۔ 2 ان کے لیے جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیں اور تمردو طغیان کا راستہ اختیار کریں یہ اللہ کے اس قول کی طرح ہی ہے (نَبِّئْعِبَادِيْٓاَنِّىْٓاَنَاالْغَفُوْرُالرَّحِيْمُ 49ۙ وَاَنَّعَذَابِيْهُوَالْعَذَابُالْاَلِيْمُ 50) 15۔ الحجر:49) میرے بندوں کو بتلا دو کہ میں غفور و رحیم ہوں اور میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے قرآن کریم میں اکثر جگہ یہ دونوں وصف ساتھ ساتھ بیان کیے گئے ہیں تاکہ انسان خوف اور رجا کے درمیان رہے کیونکہ محض خوف ہی خوف انسان کو رحمت و مغفرت الہی سے مایوس کرسکتا ہے اور نری امید گناہوں پر دلیر کردیتی ہے۔ 3۔ 3 طول کے معنی فراخی اور تونگری کے ہیں یعنی وہی فراخی اور تونگری عطا کرنے والا ہے بعض کہتے ہیں اس کے معنی ہیں انعام اور تفضل یعنی اپنے بندوں پر انعام اور فضل کرنے والا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔