ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 19

یَعۡلَمُ خَآئِنَۃَ الۡاَعۡیُنِ وَ مَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ ﴿۱۹﴾
وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔ En
وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)
En
وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس میں اللہ تعالیٰ کے علم کامل کا بیان ہے کہ اسے تمام اشیا کا علم ہے چھوٹی ہو یا بڑی باریک ہو یا موٹی اعلی مرتبے کی ہو یا چھوٹے مرتبے کی اس لیے انسان کو چاہیے کہ جب اس کے علم و احاطہ کا یہ حال ہے تو اس کی نافرمانی سے اجتناب اور صحیح معنوں میں اس کا خوف اپنے اندر پیدا کرے آنکھوں کی خیانت یہ ہے کہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا جائے جیسے راہ چلتے کسی حسین عورت کو کنکھیوں سے دیکھنا سینوں کی باتوں میں وہ وسوسے بھی آجاتے ہیں جو انسان کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں وہ جب تک وسوسے ہی رہتے ہیں یعنی ایک لمحہ گزراں کی طرح آتے اور ختم ہوجاتے ہیں تب تک تو وہ قابل مواخذہ نہیں ہوگے لیکن جب وہ عزائم کا روپ دھار لیں تو پھر ان کا مواخذہ ہوسکتا ہے چاہے ان پر عمل کرنے کا انسان کو موقع نہ ملے۔