ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ النساء (4) — آیت 31

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ نُدۡخِلۡکُمۡ مُّدۡخَلًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾
اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو گے جن سے تمھیں منع کیاجاتا ہے تو ہم تم سے تمھاری چھوٹی برائیاں دور کر دیں گے اور تمھیں با عزت داخلے کی جگہ میں داخل کریں گے۔ En
اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے
En
اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ گناہ ہیں جن پر حد مقرر ہے، بعض کے نزدیک وہ گناہ جس پر قرآن میں یا حدیث میں سخت وعید یا لعنت آئی ہے، بعض کہتے ہیں ہر وہ کام جس سے اللہ نے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تحریم کے روکا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بات بھی کسی گناہ میں پائی جائے تو کبیرہ ہے۔ یہاں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو مسلمان کبیرہ گناہوں مثلاً شرک، حقوق والدین، جھوٹ وغیرہ سے اجتناب کرے گا، تو ہم اس کے صغیرہ گناہ معاف کردیں گے۔ سورة نجم میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے البتہ وہاں کبائر کے ساتھ فواحش (بےحیائی کے کاموں) سے اجتناب کو بھی صغیرہ گناہوں کی معافی کے لئے ضروی قرار دیا گیا ہے علاوہ ازیں صغیرہ گناہوں پر اصرار و مداومت بھی صغیرہ گناہوں کو کبائر بنا دیتی ہے اسی طرح اجتناب کبائر کے ساتھ احکام و فرائض اسلام کی پابندی اور اعمال صالحہ کا اہتمام بھی نہایت ضروری ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شریعت کے مزاج کو سمجھ لیا تھا اس لئے انہوں نے صرف وعدہ مغفرت پر ہی تکیہ نہیں کیا بلکہ مغفرت و رحمت الہی کے یقینی حصول کے لئے مزکورہ تمام ہی باتوں کا اہتمام کیا جب کہ ہمارا دامن عمل سے تو خالی ہے لیکن ہمارے قلب امیدوں اور آرزو وں سے معمور ہیں