ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الزمر (39) — آیت 51

فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ؕ وَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ ہٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیۡبُہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ۙ وَ مَا ہُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۵۱﴾
تو ان پر ان (اعمال) کے وبال آپڑے جو انھوں نے کمائے اور وہ لوگ جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا ان پر بھی جلد ہی ان (اعمال) کے وبال آ پڑیں گے جو انھوں نے کمائے اور وہ ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔ En
ان پر ان کے اعمال کے وبال پڑ گئے۔ اور جو لوگ ان میں سے ظلم کرتے رہے ہیں ان پر ان کے عملوں کے وبال عنقریب پڑیں گے۔ اور وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے
En
پھر ان کی تمام برائیاں ان پر آ پڑیں، اوران میں سے بھی جو گناه گار ہیں ان کی کی ہوئی برائیاں بھی اب ان پر آ پڑیں گی، یہ (ہمیں) ہرا دینے والے نہیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 برائیوں سے مراد ان کی برائیوں کی جزا ہے ان کو مشاکلت کے اعتبار سے سیئات کہا گیا ہے ورنہ برائی کی جزا برائی نہیں ہے جیسے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا میں ہے فتح القدیر 49۔ 2 یہ کفار مکہ کو تنبیہ ہے چناچہ ایسا ہی ہوا یہ بھی گزشتہ قوموں کی طرح قحط قتل واسارت وغیرہ سے دو چار ہوئے اللہ کی طرف سے آئے ہوئے ان عذابوں کو یہ روک نہیں سکے۔