ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ ص (38) — آیت 6

وَ انۡطَلَقَ الۡمَلَاُ مِنۡہُمۡ اَنِ امۡشُوۡا وَ اصۡبِرُوۡا عَلٰۤی اٰلِہَتِکُمۡ ۚۖ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ یُّرَادُ ۖ﴿ۚ۶﴾
اور ان کے سرکردہ لوگ چل کھڑے ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقیناً یہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ En
تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اور اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو۔ بےشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف وفضلیت) مقصود ہے
En
ان کے سردار یہ کہتے ہوئے چلے کہ چلو جی اور اپنے معبودوں پر جمے رہو، یقیناً اس بات میں تو کوئی غرض ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6۔ 1 یعنی اپنے دین پر جمے رہو اور بتوں کی پوجا کرتے رہو، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر کان مت دھرو! 6۔ 2 یعنی یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے چھڑا کر دراصل اپنے پیچھے لگانا اور اپنی قیادت منوانا چاہتا ہے۔