ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الصافات (37) — آیت 58

اَفَمَا نَحۡنُ بِمَیِّتِیۡنَ ﴿ۙ۵۸﴾
تو کیا ہم کبھی مرنے والے نہیں ہیں۔ En
کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیں
En
کیا (یہ صحیح ہے) کہ ہم مرنے والے ہی نہیں؟ En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

58۔ 1 جہنمیوں کا حشر دیکھ کر جنتی کے دل میں رشک کا جذبہ مذید بیدار ہوجائے گا اور کہے گا کہ ہمیں جو جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ملی ہیں کیا یہ دائمی نہیں؟ اب ہمیں موت آنے والی نہیں؟ جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، نہ انہیں موت آئے گی کہ جہنم کے عذاب سے چھوٹ جائیں، اور نہ ہمیں کہ جنت کی نعمتوں سے محروم ہوجائیں۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں دوزخ اور جنت کے درمیان لا کر ذبح کردیا جائے گا کہ اب موت کسی کو نہیں آئے گی۔