ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الصافات (37) — آیت 28

قَالُوۡۤا اِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَاۡتُوۡنَنَا عَنِ الۡیَمِیۡنِ ﴿۲۸﴾
کہیں گے بے شک تم ہمارے پاس قَسَم کی راہ سے آتے تھے۔ En
کہیں گے کیا تم ہی ہمارے پاس دائیں (اور بائیں) سے آتے تھے
En
کہیں گے کہ تم تو ہمارے پاس ہماری دائیں طرف سے آتے تھے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ دین اور حق کے نام سے آتے تھے یعنی باور کراتے تھے کہ یہی اصل دین اور حق ہے اور بعض کے نزدیک مطلب ہے، ہر طرف سے آتے تھے جس طرح شیطان نے کہا میں ان کے آگے، پیچھے سے، ان کے دائیں بائیں سے ہر طرف سے ان کے پاس آؤں گا اور انہیں گمراہ کروں گا (ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَاۗىِٕلِهِمْ ۭ وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ) 7۔ الاعراف:17)