ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الصافات (37) — آیت 19

فَاِنَّمَا ہِیَ زَجۡرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿۱۹﴾
سو وہ بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی، تو یکایک وہ دیکھ رہے ہوں گے۔ En
وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے
En
وه تو صرف ایک زور کی جھڑکی ہے کہ یکایک یہ دیکھنے لگیں گے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 یعنی وہ اللہ کے ایک ہی حکم اور اسرافیل ؑ کی ایک ہی پھونک (نفخہ ثانیہ) سے قبروں سے زندہ ہو کر نکل کھڑے ہونگے۔ 19۔ 2 یعنی ان کے سامنے قیامت کے ہولناک مناظر اور میدان محشر کی سختیاں ہوں گی جنہیں وہ دیکھیں گے، نفخے یا چیخ کو زجرہ (ڈانٹ) سے تعبیر کیا، کیونکہ اس سے مقصود ڈانٹ ہی ہے