ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ يس (36) — آیت 68

وَ مَنۡ نُّعَمِّرۡہُ نُنَکِّسۡہُ فِی الۡخَلۡقِ ؕ اَفَلَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۸﴾
اور جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے بناوٹ میں الٹا کر دیتے ہیں، تو کیا یہ نہیں سمجھتے۔ En
اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں تو اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے نہیں؟
En
اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے ہیں کیا پھر بھی وه نہیں سمجھتے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

68۔ 1 یعنی جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں، ان کی پیدائش کو بدل کر برعکس حالت میں کردیتے ہیں۔ یعنی جب وہ بچہ ہوتا ہے تو اس کی نشو و نما جاری رہتی ہے اور اس کی عقلی اور بدنی قوتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حتٰی کہ وہ جوانی اور بڑھاپے کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس اس کے قوائے عقلیہ و بدنیہ میں ضعف و گھٹاؤ کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ ایک بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ 68۔ 2 کہ جو اللہ اس طرح کرسکتا ہے، کیا وہ دوبارہ انسانوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں۔