ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ يس (36) — آیت 52

قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَا مَنۡۢ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَا ٜۘؐ ہٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَ صَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۵۲﴾
کہیں گے ہائے ہمار ی بربادی! کس نے ہمیں ہماری سونے کی جگہ سے اٹھا دیا؟ یہ وہ ہے جو رحمان نے وعدہ کیا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔ En
کہیں گے اے ہے ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے (جگا) اُٹھایا؟ یہ وہی تو ہے جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا
En
کہیں گے ہائے ہائے! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا۔ یہی ہے جس کا وعده رحمٰن نے دیا تھا اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

52۔ 1 قبر کو خواب گاہ سے تعبیر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قبروں میں ان کو عذاب نہیں ہوگا، بلکہ بعد میں جو ہولناک مناظر اور عذاب کی شدت دیکھیں گے، اس کے مقابلے میں انہیں قبر کی زندگی ایک خواب ہی محسوس ہوگی۔