ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ يس (36) — آیت 49

مَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً تَاۡخُذُہُمۡ وَ ہُمۡ یَخِصِّمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
وہ انتظار نہیں کر رہے مگر ایک ہی چیخ کا، جو انھیں پکڑلے گی جب کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔ En
یہ تو ایک چنگھاڑ کے منتظر ہیں جو ان کو اس حال میں کہ باہم جھگڑ رہے ہوں گے آپکڑے گی
En
انہیں صرف ایک سخت چیﺦ کاانتظار ہے جو انہیں آپکڑے گی اور یہ باہم لڑائی جھگڑے میں ہی ہوں گے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49۔ 1 یعنی لوگ بازاروں میں خریدو فروخت اور حسب عادت بحث و تکرار میں مصروف ہونگے کہ اچانک صور پھونک دیا جائے گا اور قیامت برپا ہوجائے گی یہ نفخہ اولیٰ ہوگا جسے نفخہ فزع بھی کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد دوسرا نفخہ ہوگا۔ نَفْخَۃُ الْصَّعْقِ جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا سب موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔