ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ سبأ (34) — آیت 42

فَالۡیَوۡمَ لَا یَمۡلِکُ بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ وَ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۴۲﴾
سو آج تمھارا کوئی کسی کے لیے نہ نفع کا مالک ہے اور نہ نقصان کا اور ہم ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے ظلم کیا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ En
تو آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اور ہم ظالموں سے کہیں گے کہ دوزخ کے عذاب کا جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے مزہ چکھو
En
پس آج تم میں سے کوئی (بھی) کسی کے لئے (بھی کسی قسم کے) نفع نقصان کا مالک نہ ہوگا۔ اور ہم ﻇالموں سے کہہ دیں گے کہ اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاتے رہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

42۔ 1 یعنی دنیا میں تم یہ سمجھ کر ان کی عبادت کرتے تھے کہ یہ تمہیں فائدہ پہنچائیں گے، تمہاری سفارش کریں گے اور اللہ کے عذاب سے تمہیں نجات دلوائیں گے جیسے آج بھی پیر پرستوں اور قبر پرستوں کا حال ہے لیکن آج دیکھ لو کہ یہ لوگ کسی بات پر قادر نہیں۔ 42۔ 2 ظالموں سے مراد، غیر اللہ کے پجاری ہیں،۔ کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور مشرکین سب سے بڑے ظالم۔