ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 142

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾
یا تم نے گمان کر لیا کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو نہیں جانا جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا اور تاکہ وہ صبر کرنے والوں کو جان لے۔ En
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے
En
کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، حاﻻنکہ اب تک اللہ تعالیٰ نے یہ ﻇاہر نہیں کیا کہ تم سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟ En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

142۔ 1 بغیر قتال کی آزمائش کے تم جنت میں چلے جاؤ گے؟ نہیں! بلکہ جنت ان لوگوں کو ملے گی جو آزمائش میں پورا اتریں گے، ابھی تم پر وہ حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھی، انہیں تنگ دستی اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ خوب بلائے گئے مذید فرمایا، کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی۔ 142۔ 2 یہ مضمون اس سے پہلے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، یہاں موقع کی مناسبت سے پھر بیان کیا جا رہا ہے کہ جنت یوں ہی نہیں مل جائے گی اس کے لئے پہلے تمہیں آزمائش کی بھٹی سے گزارا اور میدان جہاد میں آزمایا جائے گا وہاں نرغہ اعداء میں تم سرفروشی اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہو یا نہیں؟۔