ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 111

لَنۡ یَّضُرُّوۡکُمۡ اِلَّاۤ اَذًی ؕ وَ اِنۡ یُّقَاتِلُوۡکُمۡ یُوَلُّوۡکُمُ الۡاَدۡبَارَ ۟ ثُمَّ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
وہ تمھیں ہرگز نقصان نہیں پہنچائیں گے مگر معمولی تکلیف اور اگر تم سے لڑیں گے تو تم سے پیٹھیں پھیر جائیں گے، پھر وہ مدد نہیں کیے جائیں گے۔ En
اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی
En
یہ تمہیں ستانے کے سوا اور زیاده کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے، اگر لڑائی کا موقعہ آجائے تو پیٹھ موڑ لیں گے، پھر مدد نہ کیے جائیں گے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

111۔ 1 اس سے مراد زبانی بہتان تراشی ہے جس سے دل کو وقتی طور پر ضرور تکلیف پہنچتی ہے تاہم میدان حرب و ضرب میں یہ تمہیں شکست نہیں دے سکیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا، مدینہ سے بھی یہودیوں کو نکلنا پڑا پھر خیبر فتح ہوگیا اور وہاں سے بھی نکلے، اسی طرح شام کے علاقوں میں عیسائیوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے شکست سے دو چار ہونا پڑا تاآنکہ حروب صلیبیہ میں عیسائیوں نے اس کا بدلہ لینے کی کوشش کی اور بیت المقدس پر بھی قابض ہوگئے مگر اسے صلاح الدین ایوبی نے 90 سال کے بعد واگزار کرا لیا۔ لیکن اب مسلمانوں کی ایمانی کمزوری کے نتیجہ میں یہود و نصاریٰ کی مشترکہ سازشوں اور کوششوں سے بیت المقدس پھر مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔ تاہم ایک وقت آئے گا کہ یہ صورت حال تبدیل ہوجائے گی بالخصوص حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول کے بعد عیسائیت کا خاتمہ اور اسلام کا غلبہ یقینی ہے جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے۔ (ابن کثیر)