ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 106

یَّوۡمَ تَبۡیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسۡوَدُّ وُجُوۡہٌ ۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ ۟ اَکَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾
جس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تو وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا؟ تو عذاب چکھو، اس وجہ سے کہ تم کفر کیا کرتے تھے۔ En
جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے منہ سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو
En
جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان ﻻنے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

16۔ 1 حضرت ابن عباس ؓ نے اس سے اہل سنت والجماعت اور اہل بدعت وافتراق مراد لئے ہیں (ابن کثیر و فتح القدیر) جس سے معلوم ہوا اسلام وہی ہے جس پر اہل سنت والجماعت عمل پیرا ہیں اور اہل بدعت و اہل افتراق اس نعمت اسلام سے محروم ہیں جو ذریعہ نجات ہے۔