ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ القصص (28) — آیت 75

وَ نَزَعۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا فَقُلۡنَا ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ فَعَلِمُوۡۤا اَنَّ الۡحَقَّ لِلّٰہِ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۷۵﴾
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے، پھر ہم کہیں گے لاؤ اپنی دلیل، تو وہ جان لیں گے کہ بے شک سچ بات اللہ کی ہے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ گھڑا کرتے تھے۔ En
اور ہم ہر ایک اُمت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا
En
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواه الگ کرلیں گے کہ اپنی دلیلیں پیش کرو پس اس وقت جان لیں گے کہ حق اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو کچھ افترا وه جوڑتے تھے سب ان کے پاس سے کھو جائے گا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

75-1اس گواہ سے مراد پیغمبر ہے۔ یعنی ہر امت کے پیغمبر کو اس امت سے الگ کھڑا کردیں گے۔ 75-2یعنی دنیا میں میرے پیغمبروں کی دعوت توحید کے باوجود میرے شریک ٹھہراتے تھے اور میرے ساتھ ان کی بھی عبادت کرتے تھے، اس کی دلیل پیش کرو۔ 75-3یعنی وہ حیران اور ساکت کھڑے ہونگے، کوئی جواب اور دلیل انھیں نہیں سوجھے گی۔ 75-4یعنی ان کے کام نہیں آئے گا۔