اور کہا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو۔ سو وہ انھیں پکاریں گے تو وہ انھیں جواب نہ دیں گے اور وہ عذاب کو دیکھ لیں گے۔ کاش کہ واقعی وہ ہدایت قبول کرتے ہوتے۔
En
اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اُن کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے
64-1یعنی ان سے مدد طلب کرو، جس طرح دنیا میں کرتے تھے کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں؟ پس وہ پکاریں گے، لیکن وہاں کس کو یہ جرت ہوگی کہ جو یہ کہے کہ ہاں ہم تمہاری مدد کرتے ہیں؟ -64-2یعنی یقین کرلیں گے کہ ہم سب جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔ -64-3یعنی عذاب دیکھ لینے کے بعد آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں ہدایت کا راستہ اپنا لیتے تو آج وہ اس حشر سے بچ جاتے۔ (وَيَوْمَيَقُوْلُنَادُوْاشُرَكَاۗءِيَالَّذِيْنَزَعَمْتُمْفَدَعَوْهُمْفَلَمْيَسْتَجِيْبُوْالَهُمْوَجَعَلْنَابَيْنَهُمْمَّوْبِقًا 52 وَرَاَالْمُجْرِمُوْنَالنَّارَفَظَنُّوْٓااَنَّهُمْمُّوَاقِعُوْهَاوَلَمْيَجِدُوْاعَنْهَامَصْرِفًا 53) 18۔ الکہف:53-52) میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔