ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ القصص (28) — آیت 58

وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَرۡیَۃٍۭ بَطِرَتۡ مَعِیۡشَتَہَا ۚ فَتِلۡکَ مَسٰکِنُہُمۡ لَمۡ تُسۡکَنۡ مِّنۡۢ بَعۡدِہِمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا ؕ وَ کُنَّا نَحۡنُ الۡوٰرِثِیۡنَ ﴿۵۸﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں جو اپنی معیشت پر اترا گئی تھیں، تو یہ ہیں ان کے گھر جو ان کے بعد آباد نہیں کیے گئے مگر بہت کم اور ہم ہی ہمیشہ وارث بننے والے ہیں۔ En
اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشت میں اترا رہے تھے۔ سو یہ اُن کے مکانات ہیں جو اُن کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم۔ اور اُن کے پیچھے ہم ہی اُن کے وارث ہوئے
En
اور ہم نے بہت سی وه بستیاں تباه کر دیں جو اپنی عیش و عشرت میں اترانے لگی تھیں، یہ ہیں ان کی رہائش کی جگہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد کی گئیں اور ہم ہی ہیں آخر سب کچھ کے وارث En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

58-1یہ اہل مکہ کو ڈرایا جا رہا ہے کہ تم دیکھتے نہیں کہ اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کر اللہ کی ناشکری کرنے اور سرکشی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا، آج ان کی بیشتر آبادیاں کھنڈر بنی ہوئی یا صرف صفحات تاریخ پر ان کا نام رہ گیا ہے۔ اور اب آتے جاتے مسافر ہی ان میں کچھ دیر کے لئے سستا لیں تو سستا لیں، ان کی نحوست کی وجہ سے کوئی بھی ان میں مستقل رہنا پسند نہیں کرتا۔ 58-2یعنی ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا جو ان مکانوں اور مال و دولت کا وارث ہوتا۔