ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ القصص (28) — آیت 32

اُسۡلُکۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ ۫ وَّ اضۡمُمۡ اِلَیۡکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّہۡبِ فَذٰنِکَ بُرۡہَانٰنِ مِنۡ رَّبِّکَ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۳۲﴾
اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کر، وہ کسی عیب کے بغیر سفید (چمکدار) نکلے گا اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنا بازو اپنی جانب ملالے، سو یہ دونوں تیرے رب کی جانب سے فرعون اوراس کے سرداروں کی طرف دو دلیلیں ہیں۔ بلاشبہ وہ ہمیشہ سے نافرمان لوگ ہیں۔ En
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف دور ہونے (کی وجہ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سیکڑلو۔ یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں
En
اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وه بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید اور خوف سے (بچنے کے لیے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے، پس یہ دونوں معجزے تیرے لیے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، یقیناً وه سب کے سب بےحکم اور نافرمان لوگ ہیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32-1یہ ید بیضاء دوسرا معجزہ تھا جو انھیں عطا کیا گیا۔ 32-2لاٹھی کا اژدھا بن جانے کی صورت میں جو خوف حضرت موسیٰ ؑ کو لاحق ہوتا تھا، اس کا حل بتلا دیا گیا کہ اپنا بازو اپنی طرف ملا لیا کرو یعنی بغل میں دبا لیا کرو جس سے خوف جاتا رہا کرے گا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ عام ہے کہ جب بھی کسی سے کوئی خوف محسوس ہو تو اس طرح کرنے سے خوف دور ہوجائے گا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کی اقتداء میں جو شخص بھی گھبراہٹ کے موقع پر اپنے دل پر ہاتھ رکھے گا، تو اس کے دل سے خوف جاتا رہے گا یا کم از کم ہلکا ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ۔ 32-3یعنی فرعون اور اسکی جماعت کے سامنے یہ دونوں معجزے اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کرو۔ یہ لوگ اللہ کی اطاعت سے نکل چکے ہیں اور اللہ کے دین کے مخالف ہیں۔