ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 14

وَ لَہُمۡ عَلَیَّ ذَنۡۢبٌ فَاَخَافُ اَنۡ یَّقۡتُلُوۡنِ ﴿ۚ۱۴﴾
اور ان کا میرے ذمے ایک گناہ ہے، پس میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ En
اور ان لوگوں کا مجھ پر ایک گناہ (یعنی قبطی کے خون کا دعویٰ) بھی ہے سو مجھے یہ بھی خوف ہے کہ مجھ کو مار ہی ڈالیں
En
اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

14-1یہ اشارہ ہے اس قتل کی طرف، جو حضرت موسیٰ ؑ سے غیر ارادی طور پر ہوگیا تھا اور مقتول قبطی یعنی فرعون کی قوم سے تھا، اس لئیے فرعوں اس کے بدلے میں حضرت موسیٰ ؑ کو قتل کرنا چاہتا تھا، جس کی اطلاع پا کر حضرت موسیٰ ؑ مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ اس واقعہ پر اگرچہ کئی سال گزر چکے تھے، مگر فرعون کے پاس جانے میں واقعی یہ امکان موجود تھا کہ فرعون ان کو اس جرم میں پکڑ کر قتل کی سزا دینے کی کوشش کرے۔ اس لئے یہ خوف بھی بلا جواز نہیں تھا۔