ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 20

وَ شَجَرَۃً تَخۡرُجُ مِنۡ طُوۡرِ سَیۡنَآءَ تَنۡۢبُتُ بِالدُّہۡنِ وَ صِبۡغٍ لِّلۡاٰکِلِیۡنَ ﴿۲۰﴾
اور وہ درخت بھی جو طور سینا سے نکلتا ہے، تیل لے کر اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی۔ En
اور وہ درخت بھی (ہم ہی نے پیدا کیا) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے (یعنی زیتون کا درخت کہ) کھانے کے لئے روغن اور سالن لئے ہوئے اُگتا ہے
En
اور وه درخت جو طور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والے کے لئے سالن ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20-1اس سے زیتون کا درخت مراد ہے، جس کا روغن تیل کے طور پر اور پھل سالن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سالن کو صِبْغٍ، ُ رنگ کہا ہے کیونکہ روٹی، سالن میں ڈبو کر، گویا رنگی جاتی ہے۔ طُوْرِ سَیْنَآءَ (پہاڑ) اور اس کا قرب و جوار خاص طور پر اس کی عمدہ قسم کی پیداوار کا علاقہ ہے۔