ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 12

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۚ۱۲﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو حقیر مٹی کے ایک خلاصے سے پیدا کیا۔ En
اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے
En
یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12-1مٹی سے پیدا کرنے کا مطلب، ابو البشر حضرت آدم ؑ کی مٹی سے پیدائش ہے یا انسان جو خوراک بھی کھاتا ہے وہ سب مٹی سے ہی پیدا ہوتی ہیں، اس اعتبار سے اس نطفے کی اصل، جو خلقت انسانی کا باعث بنتا ہے، مٹی ہی ہے۔