ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الحج (22) — آیت 48

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَمۡلَیۡتُ لَہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذۡتُہَا ۚ وَ اِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ ﴿٪۴۸﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں میں نے مہلت دی، اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ En
اور بہت سی بستیاں ہیں کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا اور وہ نافرمان تھیں۔ پھر میں نے ان کو پکڑ لیا۔ اور میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے
En
بہت سی ﻇلم کرنے والی بستیوں کو میں نے ڈھیل دی پھر آخر انہیں پکڑ لیا، اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

48۔ 1 اسی لئے یہاں قانون مہلت کو پھر بیان کیا ہے کہ میری طرف سے عذاب میں کتنی ہی تاخیر کیوں نہ ہوجائے، تاہم میری گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا، نہ کہیں فرار ہوسکتا ہے۔ اسے لوٹ کر بالآخر میرے ہی پاس آنا ہے۔