ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الحج (22) — آیت 13

یَدۡعُوۡا لَمَنۡ ضَرُّہٗۤ اَقۡرَبُ مِنۡ نَّفۡعِہٖ ؕ لَبِئۡسَ الۡمَوۡلٰی وَ لَبِئۡسَ الۡعَشِیۡرُ ﴿۱۳﴾
وہ اسے پکارتا ہے کہ یقینا اس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، بلاشبہ وہ برا دوست ہے اور بلاشبہ وہ برا ساتھی ہے۔ En
ایسے شخص کو پکارتا ہے جس کا نقصان فائدہ سے زیادہ قریب ہے۔ ایسا دوست برا بھی اور ایسا ہم صحبت بھی برا
En
اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیاده قریب ہے، یقیناً برے والی ہیں اور برے ساتھی En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک غیر اللہ کا پجاری قیامت والے دن کہے گا کہ جس کا نقصان، اس کے نفع کے قریب تر ہے، وہ والی اور ساتھی یقینا برا ہے۔ یعنی اپنے معبودوں کے بارے یہ کہے گا کہ وہاں اس کے امیدوں کے محل ڈھے جائیں گے اور یہ معبود، جن کی بات اس کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے عذاب سے اس بچائیں گے، اس کی شفاعت کریں گے، وہاں خود وہ معبود بھی، اس کے ساتھ ہی جہنم کا ایندھن بنے ہونگے مطلب یہ کہ غیر اللہ کو پکارنے سے فوری نقصان تو اس کا ہوا کہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا، یہ قریب نقصان ہے۔ اور آخرت میں تو اس کا نقصان تحقیق شدہ ہی ہے۔