29۔ 1 یعنی ان فرشتوں میں سے بھی اگر کوئی اللہ ہونے کا دعویٰ کر دے تو ہم اسے بھی جہنم میں پھینک دیں گے۔ یہ شرطیہ کلام ہے، جس کا وقوع ضروری نہیں۔ مقصد، شرک کی تردید اور توحید کا اثبات ہے۔ جیسے (قُلْاِنْكَانللرَّحْمٰنِوَلَدٌ ڰ فَاَنَااَوَّلُالْعٰبِدِيْنَ) 43۔ الزخرف:81) ' اگر بالفرض رحمٰن کی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والوں میں سے ہوں گا ' (لَىِٕنْاَشْرَكْتَلَيَحْبَطَنَّعَمَلُكَ) 39۔ الزمر:65) ' اے پیغمبر! اگر تو بھی شرک کرے تو تیرے عمل برباد ہوجائیں گے ' یہ سب مشروط ہیں جن کا وقوع غیر ضروری ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔