ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ طه (20) — آیت 80

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ قَدۡ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنۡ عَدُوِّکُمۡ وَ وٰعَدۡنٰکُمۡ جَانِبَ الطُّوۡرِ الۡاَیۡمَنَ وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ﴿۸۰﴾
اے بنی اسرائیل! بے شک ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سے نجات دی اور تمھیں پہاڑ کی دائیں جانب کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا۔ En
اے آل یعقوب ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور تورات دینے کے لئے تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا
En
اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوه طور کی دائیں طرف کا وعده کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

80۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کوہ طور پر تمہیں یعنی تمہارے نمائندے بھی ساتھ لے کر آئیں تاکہ تمہارے سامنے ہی ہم موسیٰ ؑ سے ہم کلام ہوں، یا ضمیر جمع اس لئے لائی گئی کہ کوہ طور پر موسیٰ ؑ کو بلانا، بنی اسرائیل ہی کی خاطر اور انہی کی ہدایت و رہنمائی کے لئے تھا۔