ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ البقرة (2) — آیت 117

بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۱۱۷﴾
آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے بس یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔ En
(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے.
En
وه زمین اور آسمانوں کا ابتداءً پیدا کرنے واﻻ ہے، وه جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا، بس وه وہیں ہوجاتا ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

117۔ 1 یعنی وہ اللہ تو ہے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک ہے، ہر چیز اس کی فرمانبردار ہے، بلکہ آسمان کا بغیر کسی نمونے کے بنانے والا بھی وہی ہے۔ علاوہ ازیں وہ جو کام کرنا چاہے اس کے لئے اسے صرف لفظ کن کافی ہے۔ ایسی ذات کو بھلا اولاد کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے۔