ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ مريم (19) — آیت 57

وَّ رَفَعۡنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا ﴿۵۷﴾
اور ہم نے اسے بہت اونچے مقام پر بلند کیا۔ En
اور ہم نے ان کو اونچی جگہ اُٹھا لیا تھا
En
ہم نےاسے بلند مقام پر اٹھا لیا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

57۔ 1 حضرت ادریس علیہ السلام، کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کے بعد پہلے نبی تھے اور حضرت نوح ؑ کے یا ان کے والد کے دادا تھے، انہوں نے ہی سب سے پہلے کپڑے سیئے، بلندی مکان سے مراد؟ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم رُفِعَ اِلَی السَّمَآء سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح انھیں بھی آسمان پر اٹھا لیا گیا لیکن قرآن کے الفاظ اس مفہوم کے لئے صاف نہیں ہیں اور کسی صحیح حدیث میں بھی یہ بیان نہیں ہوا۔ البتہ اسرائیلی روایات میں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ملتا ہے جو اس مفہوم کے اثبات کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد مرتبے کی وہ بلندی ہے جو نبوت سے سرفراز کر کے انھیں عطا کی گئی۔ واللہ اعلم