ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ مريم (19) — آیت 50

وَ وَہَبۡنَا لَہُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِیًّا ﴿٪۵۰﴾
اور ہم نے انھیں اپنی رحمت سے حصہ عطا کیا اور انھیں سچی ناموری عطا کی، بہت اونچی۔ En
اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں۔ اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا
En
اور ان سب کو ہم نے اپنی بہت سی رحمتیں عطا فرمائیں اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند درجے کا کر دیا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

50۔ 1 یعنی نبوت کے علاوہ بھی اور بہت سی رحمتیں ہم نے انھیں عطا کیں، مثلا مال مزید اولاد اور پھر اسی سلسلہ نسب میں عرصہ دراز تک نبوت کے سلسلے کو جاری رکھنا یہ سب سے بڑی رحمت تھی جو ان پر ہوئی اسی لیے حضرت ابراہیم ؑ ابو الانبیا کہلاتے ہیں۔ 50۔ 2 لسان صدق سے مراد ثنائے حسن اور ذکر جمیل ہے لسان کی اضافت صدق کی طرف کی اور پھر اس کا وصف علو بیان کیا جس سے اس طرف اشارہ کردیا کہ بندوں کی زبانوں پر جو ان کا ذکر جمیل رہتا ہے، تو وہ واقعی اس کے مستحق ہیں۔ چناچہ دیکھ لیجئے کہ تمام دیگر مذاہب کو ماننے والے بلکہ مشرکین بھی حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد کا تذکرہ بڑے اچھے الفاظ میں اور نہایت ادب و احترام سے کرتے ہیں۔ یہ نبوت واولاد کے بعد ایک اور انعام ہے جو ہجرت فی سبیل اللہ کی وجہ سے انھیں حاصل ہوا۔