ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الكهف (18) — آیت 74

فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ ۙ قَالَ اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا زَکِیَّۃًۢ بِغَیۡرِ نَفۡسٍ ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا نُّکۡرًا ﴿۷۴﴾
پھر وہ دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ ایک لڑکے سے ملے تو اس نے اسے قتل کر دیا۔ کہا کیا تو نے ایک بے گناہ جان کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کردیا، بلاشبہ یقینا تو ایک بہت برے کام کو آیا ہے۔ En
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی
En
پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک لڑکے کو پایا، اس نے اسے مار ڈاﻻ، موسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈاﻻ؟ بےشک آپ نے تو بڑی ناپسندیده حرکت کی En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

74۔ 1 غلام سے مراد بالغ جوان بھی ہوسکتا ہے اور نابالغ بچہ بھی۔ 74۔ 2 نکرا، فظیعامنکرا لا یعرف فی الشرع،، ایسا بڑا برا کام جس کی شریعت میں گنجائش نہیں بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی ہیں انکر من الامر الاول پہلے کام (کشتی کے تختے توڑنے) سے زیادہ برا کام۔ اس لئے کہ قتل، ایسا کام ہے جس کا تدارک اور ازالہ ممکن نہیں۔ جبکہ کشتی کے تختے اکھیڑ دینا، ایسا کام ہے جس کا تدارک اور ازالہ کیا جاسکتا ہے، کیونکہ حضرت موسیٰ ؑ کو جو علم شریعت حاصل تھا، اس کی رو سے حضرت خضر کا یہ کام بہرحال خلاف شرع تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے اعتراض کیا اور اسے نہایت برا کام قرار دیا۔