تمھارا رب تمھیں زیادہ جاننے والا ہے، اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے، یا اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے اور ہم نے تجھے ان پر کوئی ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔
En
تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ (بنا کر) نہیں بھیجا
تمہارا رب تم سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده جاننے واﻻ ہے، وه اگر چاہے تو تم پر رحم کردے یا اگر وه چاہے تمہیں عذاب دے۔ ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار ٹھہرا کر نہیں بھیجا
En
54۔ 1 اگر خطاب مشرکین سے ہو تو رحم کے معنی قبول اسلام کی توفیق کے ہونگے اور عذاب سے مراد شرک پر ہی موت ہے، جس پر وہ عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اور اگر خطاب مومنین سے ہو تو رحم کے معنی ہوں گے کہ وہ کفار سے تمہاری حفاظت فرمائے گا اور عذاب کا مطلب ہے کفار کا مسلمانوں پر غلبہ و تسلط۔ 54۔ 2 کہ آپ انھیں ضرور کفر کی دلدل سے نکالیں یا ان کے کفر پر جمے رہنے پر آپ سے باز پرس ہو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔