ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 54

رَبُّکُمۡ اَعۡلَمُ بِکُمۡ ؕ اِنۡ یَّشَاۡ یَرۡحَمۡکُمۡ اَوۡ اِنۡ یَّشَاۡ یُعَذِّبۡکُمۡ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ وَکِیۡلًا ﴿۵۴﴾
تمھارا رب تمھیں زیادہ جاننے والا ہے، اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے، یا اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے اور ہم نے تجھے ان پر کوئی ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ En
تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ (بنا کر) نہیں بھیجا
En
تمہارا رب تم سے بہ نسبت تمہارے بہت زیاده جاننے واﻻ ہے، وه اگر چاہے تو تم پر رحم کردے یا اگر وه چاہے تمہیں عذاب دے۔ ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار ٹھہرا کر نہیں بھیجا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 1 اگر خطاب مشرکین سے ہو تو رحم کے معنی قبول اسلام کی توفیق کے ہونگے اور عذاب سے مراد شرک پر ہی موت ہے، جس پر وہ عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اور اگر خطاب مومنین سے ہو تو رحم کے معنی ہوں گے کہ وہ کفار سے تمہاری حفاظت فرمائے گا اور عذاب کا مطلب ہے کفار کا مسلمانوں پر غلبہ و تسلط۔ 54۔ 2 کہ آپ انھیں ضرور کفر کی دلدل سے نکالیں یا ان کے کفر پر جمے رہنے پر آپ سے باز پرس ہو۔