ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 105

وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿۱۰۵﴾ۘ
اور ہم نے اسے حق ہی کے ساتھ نازل کیا اور یہ حق ہی کے ساتھ نازل ہوا اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا۔ En
اور ہم نے اس قرآن کو سچائی کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ سچائی کے ساتھ نازل ہوا اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے
En
اور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ بھی حق کے ساتھ اترا۔ ہم نے آپ کو صرف خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 یعنی با حفاظت آپ تک پہنچ گیا، اس میں راستے میں کوئی کمی بیشی اور کوئی تبدیلی اور آمیزش نہیں کی گئی اس لئے کہ اس کو لانے والا فرشتہ۔ شدید القوی، الامین، المکین اور المطاع فی الملاء الاعلی ہے۔ یہ وہ صفات ہیں جو حضرت جبرائیل ؑ کے متعلق قرآن میں بیان کی گئی ہیں۔ 15۔ 2 بَشِیْر اطاعت گزار مومن کے لئے اور نَذِیْر نافرمان کے لئے۔