ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ النحل (16) — آیت 48

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنۡ شَیۡءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰہِ وَ ہُمۡ دٰخِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور کیا انھوں نے اس کو نہیں دیکھا جسے اللہ نے پیدا کیا ہے، جو بھی چیز ہو کہ اس کے سائے دائیں طرف سے اور بائیں طرفوں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں، اس حال میں کہ وہ عاجز ہیں۔ En
کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں
En
کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اﻇہار کرتے ہیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

48۔ 1 اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی اور اس کی جلالت شان کا بیان ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے جھکی ہوئی اور مطیع ہے۔ جمادات ہوں یا حیوانات یا جن و انسان اور ملائکہ۔ ہر وہ چیز جس کا سایہ ہے اور اس کا سایہ دائیں بائیں جھکتا ہے تو وہ صبح و شام اپنے سائے کے ساتھ اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ امام مجاہد فرماتے ہیں جب سورج ڈھلتا ہے تو ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتی ہے۔