ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الحجر (15) — آیت 82

وَ کَانُوۡا یَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُیُوۡتًا اٰمِنِیۡنَ ﴿۸۲﴾
اور وہ پہاڑوں سے مکان تراشتے تھے، اس حال میں کہ بے خوف تھے۔ En
اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے
En
یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہوکر En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

82۔ 1 یعنی بغیر کسی خوف کے پہاڑ تراش لیا کرتے تھے۔ 9 ہجری میں تبوک جاتے ہوئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بستی سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا لپیٹ لیا اور اپنی سواری کو تیز کرلیا اور صحابہ سے فرمایا کہ روتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس بستی سے گزرو (ابن کثیر) صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔