ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الحجر (15) — آیت 27

وَ الۡجَآنَّ خَلَقۡنٰہُ مِنۡ قَبۡلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾
اور جانّ (یعنی جنوں) کو اس سے پہلے لُو کی آگ سے پیدا کیا۔ En
اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا
En
اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 جِنّ کو جن اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ سورة رحمٰن میں جنات کی تخلیق (مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ) 55۔ الرحمن:15) سے بتلائی گئی ہے اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں یہ کہا گیا اس اعتبار سے لو والی آگ یا آگ کے شعلے کا ایک ہی مطلب ہوگا۔