ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 45

وَّ سَکَنۡتُمۡ فِیۡ مَسٰکِنِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ تَبَیَّنَ لَکُمۡ کَیۡفَ فَعَلۡنَا بِہِمۡ وَ ضَرَبۡنَا لَکُمُ الۡاَمۡثَالَ ﴿۴۵﴾
اور تم ان لوگوں کے رہنے کی جگہوں میں آباد رہے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تمھارے لیے خوب واضح ہوگیا کہ ہم نے ان کے ساتھ کس طرح کیا اور ہم نے تمھارے لیے کئی مثالیں بیان کیں۔ En
اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں
En
اور کیا تم ان لوگوں کے گھروں میں رہتے سہتے نہ تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ﻇلم کیا اور کیا تم پر وه معاملہ کھلا نہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا کچھ کیا۔ ہم نے تو (تمہارے سمجھانے کو) بہت سی مثالیں بیان کردی تھیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

45۔ 1 یعنی عبرت کے لئے ہم نے تو ان کی پچھلی قوموں کے واقعات بیان کردیئے ہیں، جن کے گھروں میں تم آباد ہو اور ان کے کھنڈرات بھی تمہیں دعوت غور و فکر دے رہے ہیں۔ اگر تم نے ان سے عبرت حاصل نہیں کی اور ان کے انجام سے بچنے کی فکر نہ کرو تو تمہاری مرضی۔ پھر تم بھی اسی انجام کے لئے تیار رہو