اور وہ سب کے سب اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، تو کمزور لوگ ان لوگوں سے کہیں گے جو بڑے بنے تھے کہ بے شک ہم تمھارے تابع تھے، تو کیا تم ہمیں اللہ کے عذاب سے بچانے میں کچھ بھی کام آنے والے ہو؟ وہ کہیں گے اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمھیں ضرور ہدایت کرتے، ہم پر برابر ہے کہ ہم گھبرائیں، یا ہم صبر کریں، ہمارے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں۔
En
اور (قیامت کے دن) سب لوگ خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ضعیف (العقل متبع اپنے رؤسائے) متکبرین سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے پیرو تھے۔ کیا تم خدا کا کچھ عذاب ہم پر سے دفع کرسکتے ہو۔ وہ کہیں گے کہ اگر خدا ہم کو ہدایت کرتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے۔ اب ہم گھبرائیں یا ضد کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (گریز اور) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے
سب کے سب اللہ کے سامنے روبرو کھڑے ہوں گے۔ اس وقت کمزور لوگ بڑائی والوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابعدار تھے، تو کیا تم اللہ کے عذابوں میں سے کچھ عذاب ہم سے دور کرسکنے والے ہو؟ وه جواب دیں گے کہ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی ضرور تمہاری رہنمائی کرتے، اب تو ہم پر بے قراری کرنا اور صبر کرنا دونوں ہی برابر ہے ہمارے لیے کوئی چھٹکارا نہیں
En
21۔ 1 یعنی سب میدان محشر میں اللہ کے ربرو ہوں گے، کوئی کہیں چھپ نہ سکے گا۔ 21۔ 2 بعض کہتے ہیں کہ جہنمی آپس میں کہیں گے کہ جنتیوں کو جنت اس لئے ملی کہ وہ اللہ کے سامنے روتے اور گڑگڑاتے تھے، آؤ ہم بھی اللہ کی بارگاہ میں آہو زاری کریں چناچہ وہ روئیں گے اور خوب آہو زاری کریں گے۔ لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، پھر کہیں گے کہ جنتیوں کو جنت ان کے صبر کرنے کی وجہ سے ملی، چلو ہم بھی صبر کرتے ہیں، وہ صبر کا بھرپور مظاہرہ کریں گے، لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا، پس اس وقت کہیں گے ہم صبر کریں یا بےصبری، اب چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں۔ یہ ان کی باہمی گفتگو جہنم کے اندر ہوگی۔ قرآن کریم میں اس کو اور بھی کئی جگہ بیان کیا گیا ہے مثلاً سورة مومن (وَاِذْيَتَـحَاۗجُّوْنَفِيالنَّارِفَيَقُوْلُالضُّعَفٰۗؤُالِلَّذِيْنَاسْتَكْبَرُوْٓااِنَّاكُنَّالَكُمْتَبَعًافَهَلْاَنْتُمْمُّغْنُوْنَعَنَّانَصِيْبًامِّنَالنَّارِ 47 قَالَالَّذِيْنَاسْتَكْبَرُوْٓااِنَّاكُلٌّفِيْهَآ ۙ اِنَّاللّٰهَقَدْحَكَمَبَيْنَالْعِبَادِ 48) 40۔ المومن:48-47) سورة اعراف (قَالَادْخُلُوْافِيْٓاُمَمٍقَدْخَلَتْمِنْقَبْلِكُمْمِّنَالْجِنِّوَالْاِنْسِفِيالنَّارِۭكُلَّمَادَخَلَتْاُمَّةٌلَّعَنَتْاُخْتَهَا ۭ حَتّٰىاِذَاادَّارَكُوْافِيْهَاجَمِيْعًا ۙ قَالَتْاُخْرٰىهُمْلِاُوْلٰىهُمْرَبَّنَاهٰٓؤُلَاۗءِاَضَلُّوْنَافَاٰتِهِمْعَذَابًاضِعْفًامِّنَالنَّارِ ڛ قَالَلِكُلٍّضِعْفٌوَّلٰكِنْلَّاتَعْلَمُوْنَ 38 وَقَالَتْاُوْلٰىهُمْلِاُخْرٰىهُمْفَمَاكَانَلَكُمْعَلَيْنَامِنْفَضْلٍفَذُوْقُواالْعَذَابَبِمَاكُنْتُمْتَكْسِبُوْنَ 39) 7۔ الاعراف:39-38) (يَوْمَتُقَلَّبُوُجُوْهُهُمْفِيالنَّارِيَقُوْلُوْنَيٰلَيْتَنَآاَطَعْنَااللّٰهَوَاَطَعْنَاالرَّسُوْلَا 66 وَقَالُوْارَبَّنَآاِنَّآاَطَعْنَاسَادَتَنَاوَكُبَرَاۗءَنَافَاَضَلُّوْنَاالسَّبِيْلَا 67) 33۔ الاحزاب:67-66) اس کے علاوہ آپس میں جھگڑیں گے بھی اور ایک دوسرے پر گمراہ کرنے کا الزام دھریں گے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ جھگڑا میدان محشر میں ہوگا۔ اس کی مذید تفصیل اللہ تعالیٰ نے سورة سبا (وَقَالَالَّذِيْنَكَفَرُوْالَنْنُّؤْمِنَبِھٰذَاالْقُرْاٰنِوَلَابالَّذِيْبَيْنَيَدَيْهِ ۭ وَلَوْتَرٰٓىاِذِالظّٰلِمُوْنَمَوْقُوْفُوْنَعِنْدَرَبِّهِمْ ښ يَرْجِــعُبَعْضُهُمْاِلٰىبَعْضِۨالْقَوْلَ ۚ يَقُوْلُالَّذِيْنَاسْتُضْعِفُوْالِلَّذِيْنَاسْـتَكْبَرُوْالَوْلَآاَنْتُمْلَكُنَّامُؤْمِنِيْنَ 31 قَالَالَّذِيْنَاسْتَكْبَرُوْالِلَّذِيْنَاسْتُضْعِفُوْٓااَنَحْنُصَدَدْنٰكُمْعَنِالْهُدٰىبَعْدَاِذْجَاۗءَكُمْبَلْكُنْتُمْمُّجْرِمِيْنَ 32 وَقَالَالَّذِيْنَاسْتُضْعِفُوْالِلَّذِيْنَاسْـتَكْبَرُوْابَلْمَكْرُالَّيْلِوَالنَّهَارِاِذْتَاْمُرُوْنَــنَآاَنْنَّكْفُرَباللّٰهِوَنَجْعَلَلَهٗٓاَنْدَادًا ۭ وَاَسَرُّواالنَّدَامَةَلَمَّارَاَوُاالْعَذَابَ ۭ وَجَعَلْنَاالْاَغْلٰلَفِيْٓاَعْنَاقِالَّذِيْنَكَفَرُوْا ۭ هَلْيُجْزَوْنَاِلَّامَاكَانُوْايَعْمَلُوْنَ 33) 34۔ سباء:31 تا 33) میں بیان فرمائی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔