ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ الرعد (13) — آیت 34

لَہُمۡ عَذَابٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ۚ وَ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۳۴﴾
ان کے لیے ایک عذاب دنیا کی زندگی میں ہے اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور انھیں اللہ سے کوئی بھی بچانے والا نہیں۔ En
ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں
En
ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے، اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی زیاده سخت ہے، انہیں اللہ کے غضب سے بچانے واﻻ کوئی بھی نہیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

34۔ 1 اس سے مراد قتل اور اسیری ہے جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں ان کافروں کے حصے آتی ہے۔ 34۔ 2 جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لعنت ملامت کرنے والے جوڑے سے فرمایا تھا ' (ان عذاب الدنیا اھون من عذاب الاخرۃ) صحیح مسلم دنیا کا عذاب، آخرت سے بہت ہلکا ہے ' علاوہ ازیں دنیا کا عذاب (جیسا کچھ اور جتنا کچھ بھی ہو) عارضی اور فانی ہے اور آخرت کا عذاب دائمی ہے، اسے زوال و فنا نہیں، مذید برآں جہنم کی آگ، دنیا کی آگ کی نسبت 69 گنا تیز ہے، اور اس طرح دوسری چیزیں ہیں۔ اس لئے عذاب کے سخت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔