ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ يوسف (12) — آیت 62

وَ قَالَ لِفِتۡیٰنِہِ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَہُمۡ فِیۡ رِحَالِہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَعۡرِفُوۡنَہَاۤ اِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤی اَہۡلِہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۶۲﴾
اور اس نے اپنے جوانوں سے کہا ان کا مال ان کے کجاووں میں رکھ دو، تاکہ وہ اسے پہچان لیں جب اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائیں، شاید وہ پھر آجائیں۔ En
(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
En
اپنے خدمت گاروں سے کہا کہ ان کی پونجی انہی کی بوریوں میں رکھ دو کہ جب لوٹ کر اپنے اہل وعیال میں جائیں اور پونجیوں کو پہچان لیں تو بہت ممکن ہے کہ یہ پھر لوٹ کر آئیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 فِتْیَان (نوجوانوں) سے مراد یہاں وہ نوکر چاکر اور خادم و غلام ہیں جو دربار شاہی میں مامور تھے۔ 62۔ 2 اس سے مراد وہ پونجی ہے جو غلہ خریدنے کے لئے برادران یوسف ؑ ساتھ لائے تھے، پونجی چپکے سے ان کے سامانوں میں اس لئے رکھوا دی کہ ممکن ہے دوبارہ آنے کے لئے ان کے پاس مذید پونجی نہ ہو تو یہی پونجی لے کر آجائیں۔