ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ هود (11) — آیت 73

قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِیۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ رَحۡمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰتُہٗ عَلَیۡکُمۡ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ ؕ اِنَّہٗ حَمِیۡدٌ مَّجِیۡدٌ ﴿۷۳﴾
انھوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو! بے شک وہ بے حد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔ En
انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے
En
فرشتوں نے کہا کیا تو اللہ کی قدرت سے تعجب کر رہی ہے؟ تم پر اے اس گھر کے لوگو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، بیشک اللہ حمد وﺛنا کا سزاوار اور بڑی شان واﻻ ہے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

73۔ 1 یہ استفہام انکار کے لئے ہے۔ یعنی تو اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر پر کس طرح تعجب کا اظہار کرتی ہے جبکہ اس کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں۔ اور نہ وہ اسباب عادیہ ہی کا محتاج ہے، وہ تو جو چاہے، اس کے لفظ کُنْ (ہو جا) سے معرض وجود میں آجاتا ہے۔ 73۔ 2 حضرت ابراہیم ؑ کی اہلیہ محترمہ کو یہاں فرشتوں نے ' اہل بیت ' سے یاد کیا اور دوسرے ان کے لئے جمع مذکر مخاطب (عَلَیْکُمْ) کا صیغہ استعمال کیا۔ جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ' اہل بیت ' کے لئے جمع مذکر کے صیغے کا استعمال بھی جائز ہے۔ جیسا کہ سورة احزاب، 33 میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کی ازواج مطہرات کو بھی اہل بیت کہا ہے اور انھیں جمع مذکر کے صیغے سے مخاطب بھی کیا ہے۔