ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ هود (11) — آیت 113

وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾
اور ان لوگوں کی طرف مائل نہ ہونا جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تمھیں آگ آلپٹے گی اور تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست نہیں ہوں گے، پھر تمھیں مدد نہ دی جائے گی۔ En
اور جو لوگ ظالم ہیں، ان کی طرف مائل نہ ہونا، نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آلپٹے گی اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں۔ اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی
En
دیکھو ﻇالموں کی طرف ہرگز نہ جھکنا ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ لگ جائے گی اور اللہ کے سوا اور تمہارا مددگار نہ کھڑا ہو سکے گا اور نہ تم مدد دیئے جاؤ گے En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

113۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ساتھ نرمی کرتے ہوئے ان سے مدد حاصل مت کرنا۔ اس سے ان کو یہ تأثر ملے گا کہ گویا تم ان کی دوسری باتوں کو بھی پسند کرتے ہو۔ اس طرح یہ تمہارا ایک بہت بڑا جرم بن جائے گا جو تمہیں بھی ان کے ساتھ، نار جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے۔ اس سے ظالم حکمرانوں کے ساتھ ربط وتعلق کی بھی ممانعت نکلتی ہے، اگر مصلحت عامہ یا دینی منافع متقاضی ہوں۔ ایسی صورت میں دل سے نفرت رکھتے ہوئے ان سے ربط وتعلق کی اجازت ہوگی۔ جیسا کہ بعض احادیث سے واضح ہے۔