ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ هود (11) — آیت 105

یَوۡمَ یَاۡتِ لَا تَکَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ شَقِیٌّ وَّ سَعِیۡدٌ ﴿۱۰۵﴾
جس دن وہ (وقت) آئے گا، کوئی شخص اس کی اجازت کے سوا بات نہیں کرے گا، پھر ان میں سے کوئی بد بخت ہوگا اور کوئی خوش قسمت۔ En
جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
En
جس دن وه آجائے گی مجال نہ ہوگی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات بھی کر لے، سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 4 گفتگو نہ کرنے سے مراد، کسی کو اللہ تعالیٰ سے کسی طرح کی بات یا شفاعت کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ طویل حدیث شفاعت میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اس دن انبیاء کے علاوہ کسی کو گفتگو کی ہمت نہ ہوگی اور انبیاء کی زبان پر بھی اس دن صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ! ہمیں بچا لے، ہمیں بچا لے '۔