6۔ 1 موازین، میزان کی جمع ہے۔ ترازو، جس میں صحائف اعمال تولے جائیں گے۔ جیسا کہ اس کا ذکر (وَالْوَزْنُيَوْمَىِٕذِۨالْحَقُّ ۚ فَمَنْثَقُلَتْمَوَازِيْنُهٗفَاُولٰۗىِٕكَهُمُالْمُفْلِحُوْنَ ) 7۔ الاعراف:8) (اُولٰۗىِٕكَالَّذِيْنَكَفَرُوْابِاٰيٰتِرَبِّهِمْوَلِقَاۗىِٕهٖفَحَبِطَتْاَعْمَالُهُمْفَلَانُقِيْمُلَهُمْيَوْمَالْقِيٰمَةِوَزْنًا 15۔) 18۔ الکہف:15) اور (وَنَضَعُالْمَوَازِيْنَالْقِسْطَلِيَوْمِالْقِيٰمَةِفَلَاتُظْلَمُنَفْسٌشَـيْــــــًٔا ۭ وَاِنْكَانَمِثْقَالَحَبَّةٍمِّنْخَرْدَلٍاَتَيْنَابِهَا ۭ وَكَفٰىبِنَاحٰسِـبِيْنَ 47) 21۔ الانبیاء:47) میں بھی گزرا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہاں یہ میزان نہیں، موزون کی جمع ہے یعنی ایسے اعمال جن کی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت اور خاص وزن ہوگا (فتح القدیر) لیکن پہلا مفہوم ہی راجح اور صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی تو وزن اعمال کے وقت ان کی نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوجائے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔