ترجمہ و تفسیر احسن البیان (صلاح الدین یوسف) — سورۃ يونس (10) — آیت 92

فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴿٪۹۲﴾
پس آج ہم تجھے تیرے (خالی) بدن کے ساتھ بچالیں گے، تاکہ تو ان کے لیے عظیم نشانی بنے جو تیرے بعد ہوں اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے یقینا غافل ہیں۔ En
تو آج ہم تیرے بدن کو (دریا سے) نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لئے عبرت ہو۔ اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بےخبر ہیں
En
سو آج ہم صرف تیری ﻻش کو نجات دیں گے تاکہ تو ان کے لیے نشان عبرت ہو جو تیرے بعد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں En

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

92۔ 1 جب فرعون غرق ہوگیا تو اس کی موت کا بہت سے لوگوں کو یقین نہ آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا، کہ اس نے اس کی لاش کو باہر خشکی پر پھینک دیا، جس کا مشاہدہ پھر سب نے کیا۔ مشہور ہے کہ آج بھی یہ لاش مصر کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بالصَّوَابِ۔