ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزلزال (99) — آیت 8

وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾
اور جو شخص ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا ۔ En
اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا
En
اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 7 میں میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

8۔ 1 وہ اس پر سخت پشیمان اور مضطرب ہوگا۔ ذرۃ بعض کے نزدیک چیونٹی سے بھی چھوٹی چیز ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں، انسان زمین پر ہاتھ مارتا ہے، اس سے اس کے ہاتھ پر جو مٹی لگ جاتی ہے وہ ذرہ ہے۔ بعض کے نزدیک سوراخ سے آنے والی سورج کی شعاعوں میں گردوغبار کے جو ذرات سے نظر آتے ہیں، وہ ذرہ ہے۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے معنی کو اولیٰ کہا ہے۔ امام مقاتل کہتے ہیں کہ یہ سورت ان دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سے ایک شخص، سائل کو تھوڑا سا صدقہ دینے میں تامل کرتا اور دوسرا شخص چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کرتا تھا۔ (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ اور جس نے ذرہ بھر بدی کی ہو گی وہ (بھی) اسے [7] دیکھ لے گا
[7] ان دونوں صورتوں میں جو بھی صورت ہو یہ ممکن نہ ہو گا کہ کسی شخص نے کوئی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی ہو لیکن وہ اعمال میں درج ہونے یا ریکارڈ ہونے سے رہ جائے۔ اسی طرح جس شخص نے کوئی چھوٹے سے چھوٹا برائی کا کام کیا ہو گا وہ اسے اپنے اعمال نامہ یا ریکارڈ میں دیکھ لے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔