ترجمہ و تفسیر — سورۃ البينة (98) — آیت 5

وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ وَ یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیۡنُ الۡقَیِّمَۃِ ؕ﴿۵﴾
اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میںکہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے، ایک طرف ہونے والے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔ En
اور ان کو حکم تو یہی ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ خدا کی عبادت کریں (اور) یکسو ہو کراورنماز پڑھیں اور زکوٰة دیں اور یہی سچا دین ہے
En
انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) {وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ …: الْقَيِّمَةِ قَامَ يَقُوْمُ} سے {فَيْعِلَةٌ} کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے، جس میں تاء مبالغے کے لیے ہے، نہایت مضبوط، سیدھی جس میں کوئی کجی نہیں: {أَيْ ذٰلِكَ دِيْنُ الْمِلَّةِ الْقَيِّمَةِ} یعنی یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔ { حُنَفَآءَ حَنِيْفٌ} کی جمع ہے جو {حَنَفَ يَحْنِفُ حَنْفًا} (ض) (حاء کے ساتھ) سے {فَعِيْلٌ} بمعنی اسم فاعل ہے،اس کا لفظی معنی ایک طرف مائل ہونا ہے۔ اس کا اکثر استعمال تمام راستوں سے ہٹ کر سیدھے راستے کی طرف آنے کے معنی میں ہوتا ہے، جب کہ {جَنَفَ} (جیم کے ساتھ) کا مطلب سیدھے راستے سے ہٹ کر ادھر ادھر ہو جانا ہوتا ہے۔ اس آیت میں دین کا خلاصہ بیان فرما دیا کہ پہلی امتیں ہوں یا یہ امت، سب میں ایک ہی حکم ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کریں، جو ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک اور خالص اللہ کے لیے ہو اور باطل پر چلنے والے تمام گروہوں سے ہٹ کر ایک اللہ کی طرف یک سو ہو جائیں، جس طرح ابراہیم علیہ السلام ہو گئے تھے اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔ جب اس امت میں بھی وہی پہلا ہی حکم ہے اور پہلی امتوں کا اور اس امت کا دین قیم ایک ہی ہے، تو انھیں ماننے سے انکار کیوں ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 یعنی ان کی کتابوں میں انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ۔۔۔ 5۔ 2 حنیف کے معنی ہیں، مائل ہونا، کسی ایک طرف یکسو ہونا، حنفآء جمع ہے۔ یعنی شرک سے توحید کی طرف اور تمام ادیان سے منقطع ہو کر صرف دین اسلام کی طرف مائل اور یکسو ہوتے ہوئے۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ والسلام نے کیا۔ 5۔ 3 ا ؛ قیّمۃ محذوف موصوف کی صفت ہے۔ دین الملۃ القیّمۃ ائ: المستقیمۃ یا الأمّۃ المستقیمۃ المعتدلۃ، یہی اس ملت یا امت کا دین ہے جو سیدھی اور معتدل ہے۔ اکثر ائمہ نے اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ اعمال، ایمان میں داخل ہیں (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اور انہیں حکم تو یہی دیا گیا تھا کہ خالصتاً اللہ کی مکمل حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے اس کی عبادت [7] کریں، پوری طرح یکسو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور یہی درست دین ہے
[7] دین قیم کے تین اہم ارکان :۔
دین قیم بمعنی ایسا مستحکم اور قائم دین جو حضرت آدمؑ سے لے کر نبی آخر الزمان تک ایک ہی رہا ہے۔ اس دین کے اہم اجزاء تین باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ اکیلے ہی کو خالق و مالک سمجھا جائے۔ اس کے ساتھ کسی بھی نوعیت کا شرک نہ کیا جائے۔ اس کے حکم اور قانون کو سب سے بالاتر سمجھا جائے اور اس کے قانون اور حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے حکم یا قانون کی پروا نہ کی جائے۔ اکیلے اسی کی عبادت کی جائے اور یکسو ہو کر کی جائے۔ دوسری یہ کہ نماز کو ٹھیک طریقے سے باقاعدگی کے ساتھ ہمیشہ ادا کیا جائے اور تیسری یہ کہ اپنے اموال میں سے زکوٰۃ ادا کی جائے۔ واضح رہے کہ نماز اور زکوٰۃ کو ٹھیک طور پر اور باقاعدگی کے ساتھ وہی ادا کر سکتے ہیں جو عقیدہ آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ دوسرے نہیں کر سکتے۔ منافق لوگ بھی نماز اور زکوٰۃ ادا کیا کرتے تھے۔ مگر نمود و نمائش اور دکھلاوے کے لیے اور اپنی طبیعت پر بوجھ سمجھ کر۔ یہی تینوں باتیں اسلام کے تین اہم ابتدائی ارکان ہیں۔ روزہ اور حج بھی سابقہ امتوں پر فرض تھے مگر اختصار کی وجہ سے اکثر مقامات پر ان کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ جیسے سورۃ بقرہ کی ابتدا میں متقین کی تعریف میں بھی انہیں تین اہم ارکان کا ذکر ہے۔ روزہ اور حج کا نہیں ہے۔ اور یہی تین باتیں کسی کو ایک اسلامی مملکت میں شہریت کے حقوق عطا کرتی ہیں۔ جیسے سورۃ توبہ کی آیت نمبر 11 میں فرمایا:”پھر اگر یہ مشرک شرک سے توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو تمہارے دینی بھائی ہیں“ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ ﴿لا الٰه الا اللّٰه محمد رسول الله﴾ کی شہادت دیں۔ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ اگر وہ یہ شرائط تسلیم کر لیں تو ان کی جانیں مجھ سے محفوظ ہو جائیں گی۔ الا یہ کہ وہ اسلام کے کسی حق کے تحت اس حفاظت سے محروم کر دیئے جائیں۔ رہا ان کے باطن کا معاملہ تو وہ اللہ کے ذمہ ہے۔“ [مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب الامربقتال الناس]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔